Home Articles عارف شاہد کو کیوں شہید کیا گیا؟ (Article by Hashim Qureshi)

عارف شاہد کو کیوں شہید کیا گیا؟ (Article by Hashim Qureshi)

9062
0
SHARE

عارف شاہد کو شہید کیوں کیاگیا ؟

ًجس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ،و ہ شا ن سلامت رہتی ہے ۔۔

یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جان کی کوئی بات نہیں ً

انسان صدیوں کے لئے دنیا میں جینے کےلئے نہیں آیا۔جو بھی پیدا ہوا اُس نے اس فانی دنیاسے کوچ ہی کرلینا ہے البتہ انسانی شعور نے جب ارتقائی عمل طےکیا توکروڈوں اربوں انسانوں میں چند سو ہی ہونگے جنہوں نے انسان کی پیدایش اور اس کی موت پر غور کیا ہوگا ۔اس غوروفکر کی بدولت ہی سب نہیں بلکہ چند سو ہی انسانوں کی بہتری کے لئے اشرف المخلوقات کہلائے اور یہی وہ لوگ ہیں جو نہ صرف اپنے معاشروں میں سرخرو ہوئے بلکہ پوری انسانیت کے سامنے قابلِ عزت و تعظیم ٹھہرے؟ بے شک ان میں سے بہت لوگ متناذعہ بھی بنے اور کچھ کے سامنے جو ‘ً دہشت گرد ‘ً تھے وہ بہتوں کے ہاں حریت پسند اور جو کسی کے سامنے ًایجنٹ ً ‘کہلاے وہ نہ صرف محبِ وطن ٹھہرے بلکہ قوموں نے اُن کو عظیم ہیرو قرار دیا۔

آج میرے اس آرٹیکل کا ہیرو بھی ایک ایسا شیفق،دل گداذ،لوگوں کا ہمدرد اور لوگوں کو سوچ و نظریاتی غلامی سے آذاد اورپورے جموں و کشمیر کو متحد کرنےاور غلامی سے نجات دلانےکے لئے خون رنگ جدوجہد کرنے والا عارف شاہد ہے جس نے اپنے آدرشوں اور اپنے ہم وطنوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے اپنی جان بھی قربان کرلی تھی ۔

عارف شاہد نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنی طویل جنگ جیت لی تھی کیونکہ حکومت نے ان کو چار سالوں سے Exist List لسٹ پر ڈالا تھا۔سپریم کورٹ نے حکومت کی پابندی کو منسوخ کیا تھا اور عارف شاہد چند دنوں کے بعد ایک ماہ کےلئے بیرونی ممالک کے دورے پر جارہاتھا مگر تین دن پہلے ہی عارف شاہدکو قتل کردیا گیاجب وہ اپنی گاڈی سے اتر کر گھر کی طرف جارہا تھاتو ان پر تین گولیاں پروفشنل قاتلوں نے چلائی وہ وہاں پر ہی شہید ہوئےیہ مئئ ۱۳ تاریخ تھی ۔مجھے کھبی بھی 13 تاریخ منخوس نہیں لگتی تھی مگر اس حادثے کے بعد میرے لئے یہ تاریخ باقی بہت سارے لوگوں کی طرح ‘ ً ً منخوس ً ہی لگنے لگی ہے۔آج 6 چھٹہ سال ھوگیا مگر آج تک اِن ۶سالوں میں قاتلوں کا نشان بھی نہیں ملا۔کیسے ملتاقاتل ؟
ً ہمیں سے سنتِ و منصور وقیس باقی ہے
زنداں زنداں شور اَنالحق محفل محفل قل قل ہے ً

عارف شاہد کون تھا؟ کھائی گلہ رولاکوٹ میں پیدا ہوا وہاں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی تو یہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ کب غمِ روزگار سے آنکھیں لڑی ؟مگر اپنے آپ کو دھران سعودی عرب کے ریگستانوں میں اپنے اور اپنے خاندان کی سانسوں کے رشتوں کو قائم رکھنے کے لئے مزدوری کرتے ہوئے پایا۔اندر کے انسان نے غلامی سے نفرت کرنے کی صدا دی۔افضل طاہر جیسے حُریت پسند و آذادی کا دیوانہ ملا۔ انھوں نے آگ کی تپش تیز کردی۔ہزاروں لاکھوں ہم وطنوں کو جب عرب کے تپ ودق صحرا میں روزی کے لئے نہ صرف دھکے کھاتے ہوئے دیکھا بلکہ محنت کی کمائی کے لئے بھی تذلیل سہتے ہوئے پایا تو بغاوت کا جنون اپنی حدوں سے باہر آنے لگا؟

عارف شاہد لبریشن فرنٹ میں اس طرح شامل ہوا کہ عارف شاہد عارف شاہد نہ رہا بلکہ لبریشن فرنٹ ھوگیا تمام سعودیہ میں کنوینر بنکر نہ صرف سعودیہ میں بلکہ تمام گلف میں لبریشن فرنٹ کو منظم کیااور ‘ ًچندہ جمع کرنےکی مشین ً بنکر امان اللہ خان کے لئے سعودی بینک ثابت ہوا۔ اپنی آمدنی کا پچاس فی صد بھی پارٹی کی نظر کرتا رہا۔میں اُن دنوں لبریشن فرنٹ کو ‘ ً آذاد کشمیر ً اور پاکستان میں منظم کررہا تھا۔عارف شاہدجب بھی گھر آتا تھامجھ سے پاکستان میں نہ صرف ملتا تھا بلکہ ھم کافی دنوں تک اکھٹے رہتے تھے اور کشمیر کے بارے میں وہ ًانتہا پسندً
بن گئے تھے؟

وہ کہتے تھے ـ ـ ً تم لوگ ہمیں ہندوستان سے آذادی کی جدوجہد کرنے کے لئے تیار کرتے ہو۔مگر مجھے یہ بتاو ً اس خطے کو جس کو آذاد کشمیر کہتے ہو، اس کو کونسی آذادی حاصل ہے نہ سڑکیں ہے،نہ علاج معالجہ کی کوئی سہولیت میسر ہے، ہم لاکھوں لوگ جو سال بھر کی محنت کے بعد آرام کرنے کے لئے گھر آتے ہیں ہم سبوں کو اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچوں کے علاج کے لئے راولپنڈی اور لاہور کے چکر کاٹنے پڑتے ہے، ہم لوگ پاکستان کو کروڈوں ڈالر زرمبادلہ کی شکل میں فارن ایکس چینج دیتے ہے مگر ہمارے ہاں روزگار کے لئے کوئی فیکٹری یا کوئی اور انڈسٹری نہیں لگائی جاتی ہے اور پھر باہر سے گھر آنے پر پاکستان کے ائیر پورٹوں پر ہمارے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس سے غلامی کی زلت کا شدید احساس ہوتا ہے۔پھر جب اپنے آقاوں پر نظر پڑتی ہے تو یہ ہندوستانی نہیں بلکہ پاکستانی ہے، ہمیں اور گلگت والوں کو پاکستانیوں نے غلام بنایا ہے؟ ً

ً منگلا ڈیم کو بنانے کے لئے لوگوں نے اپنے آبائی مکان ہی نہیں بلکہ اپنے پیاروں کی قبریں بھی ڈیم کی نظر کردی مگر یہ وعدہ کرنے کے بعد بھی کہ نہ صرف منگلا کے پانی سے بننے والی بجلی مفت دی جائے گی بلکہ ھم وہاں سے نکلنے والی بجلی کی رایلٹی بھی دینگے، مگرمفت بجلی اور ائلٹی کی تسلی ہوگئ کاش ہمارے ہاں بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیلڈنگ ہی نہ کرتے۔ ہمارے ہاں لوگ دس پندرہ سالوں تک عرب کے ریگستانوں میں مزدوری کرکے آتے ہیں اور یہ سب مکان اور بچوں کی تعلیم اور بیماریوں پر خرچ ھوتا ہے اور آخیر میں ہم کام ڈھونڈنے نکلتے ہے تو کام نہیں ملتا کیونکہ پاکستان نے ہمارا ارسال کردہ سارا زرمبادلہ پنجاب اور دوسری جگہوں پر لگایا ھوتا ہے اس لئے ہم سب کو پھر سے باہر کام ڈھونڈنے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا کر پھر پردیس جاناپڑھتا ہے اور یہ سلسلہ ہماری موت تک چلتا ہے اور ہم آخیر می گھر تابوت میں آجاتے ہے ً

یہی وہ سچ تھا جس کی بنیاد پر عارف شاہد لبریشن فرنٹ کا باغی بن گیا۔ وہ یہ مطالبہ کرنے لگا کہ ً آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہندوستان کے نہیں پاکستان کی غلامی میں ہے ہمارا استحصال پاکستانی کررہے ہے تو ہمیں یہاں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف لڑنا چاہئے۔ہمیں اسلحہ اور روپیہ ایک غاضب سے لیکر دوسرے غاضب کے خلاف نہیں لڑنا چاہئے کیونکہ یہ آذادی کی جنگ نہیں بلکہ ایک غاضب کی مدد کرنا ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنی غلامی کی زنجیریں مضبوط کرنا ہوگااورکشمیر مذہبی بنیادوں پر تقسیم ھو گا ً

عارف شاہد کو اس آرٹیکل میں خرآج تحسین پیش ہی نہیں کیا جاسکتا ا لبتہ اس کی چند پبلک جلسوں میں تقریروں کے اقتباسات پیش کرتا ہوںے وہ کہتے ہے:
‘ ً آج تک ہماری عقل میں یہ بات نہیں آئی کہ جو جہاد کا درس دیتے ہیں ان میں سے پاکستانی جنرلوں کےبچے،قاضی حسین کے بچے، حافظ سعد کے بچے امریکہ میں پڑھتے ہے اور مزدور کا بچہ،،دوکاندار کا بچہ،کسان اور ریڑی والے کا پندرہ اور چودہ سال کے بچے کے لئے جہاد فرض ہے۔ان بچوں کو دس سے پندرہ دنوں کی ٹرینگ دے کر مروانے کے لئے پار دھکیل دیتے ہے۔ اگر جہاد میں اتنی ہی کشش ہے اور اتنا ہی ثواب ہے تو ان جنرلوں کو جانا چاہے جو پاکستان کے قومی بجٹ کا ۸۰٪ فی صد کھاجاتےہے ً

ً ً ہم نے اس جہاد کو کشمیریوں کی آذادی کی جنگ کھبی نہیں سمجھا یہ پہلے دن سے آئی۔ایس۔ آئی کی Proxy war تھی انڈیا کے ساتھ جس میں لبریشن فرنٹ استمال ہواہے۔ جو خود کو ‘خود مختارکشمیر کا دعواء کرتےتھے ً

ًً ً ً ریاست جموں کشمیر کوئی مذہبی جھگڑا نہیں ہے ہم صدیوں سے ہندو،بودھ، مسلمان،سکھ ہم سب اس وطن کے بیٹے ہیں اور ہم سب کو مذہبی منافرت میں مبتلا کیا ہے۔یہا ںجو جن کو ہیرو بنایا جاتا ہے وہ ایجنٹ ہے خفیہ ایجنسیوں کے۔ اُنھوں نے ہی ان کو پروپگنڈے کے ذریعہ لیڈر بنایا ً

عارف شاہد جیسے لوگ اگر زندہ قوموں میں پیدا ہوتے تو تعظیم اور عزت اور مثال بنانے کے لئے اُن کے بُت جگہ جگہ کھڑے کئے جاتے مگر ان کے نام پر یورپ میں اُن کے ہم وطن اور نوجوان سیاسی پناہ تو لے سکتے ہے مگر اُن کی راہ اپنانے میں عزت کی موت مل جائے گی یورپ کی عیاشی نہیں؟

ا ُن کا ایک رشتہ دار ہے جس کی عارف شاہد نے ساری زندگی مدد کی ۔جو لبریشن فرنٹ میں رہ کر آئی۔ایس ۔آئی کے ساتھ کام کرتا تھا مگر پھر اسی ایجنسی کے خلاف یورپ میں سیاسی پناہ لے لی اور دنیا جہاں کا جھوٹ بول کر یورپ کے ایک ملک میں چھ سات بچوں سمیت سیاسی پناہ لی ہوئی ہے جو کھبی لبریشن فرنٹ کا بڑا عہدہ دار تھا۔وہ اُس کے بارے میں آئی۔ایس۔آئی کا پروپگنڈہ کرتا ہے کہ عارف شاہد ‘ ً ایجنٹ ً تھا۔ جب تک ہم کشمیر کے لوگ اس بات کا اِدراک نہ کریں کہ غلام قوموں کو منتشر اور غلام رکھنے کا یہ قابض قوتوں کا ایک بڑا ہتھیار ہے تب تک ہم آذادی اور خود مختاری کی پہلی اینٹ بھی نہیں رکھ سکتے ہے؟

عارف شاہد پوری زندگی سعودی عرب میں کام کرتا رہا مگر اس نے وطن مستقل واپس آنے سے پہلے اپنا کارو بار بھی کھڑا کیا تھا۔جس میں بنجوسہ راولاکوٹ میں ایک ہوٹل بھی تھا۔ہوٹل میں انھوں نے کونٹر کے پیچھے اپنی فوٹو لگا رکھی تھی کس نے پوچھا کہ ‘ ً لوگ تو کسی بڑے آدمی یا ملک کے فونڈر کی تصویر لگاتے ہے مگر آپ نے اپنی لگائی ہے کیوں؟ ً عارف نے جواب دیا کہ مزدوری میں نے ریگستانوں میں کی اوریہ ہوٹل میری محنت سے بنا ہے مجھ سے ذیادہ فوٹو لگانے کا کون حقدار ہوسکتا ہے ً

عارف شاہد بہت سارے یتیموں کی مدد کرتا تھا میری طرح اپنے سیاسی مخالفوں کی بھی مدد کرتا تھا عارف شاہد نے کشمیر کی سیاست میں وہ کردکھایا جو آج تک اِدھر یا اُدھر کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی نے نہیں کردیا تھا یعنئ عارف نے اکیس نشنلسٹ سیاسی گروپوں اور پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کرکے ‘ ً اپنا ً کے نام سے نشلسٹوں کا مضبوط اتحاد کھڑا کیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی اتحاد عارف شاہد کے قتل کے لئے آخیری کیل ثابت ہوئی کیونکہ اس اتحاد میں شوکت مقبول بٹ، وجاہت خان کرنل حسن خان کا بیٹا ،پروفیسر خلیق اور بڑے پائے کے نشنلسٹ موجود تھے۔

عارف شاہد جذباتی نہیں تھا وہ دلیل اور منطق سے بات کرتا تھا اُنھوں نے چھ سات کتابیں بھی کشمیر کی قومی آذادی پر لکھی ہے وہ دلیل دے کر مخالفوں کو لاجواب کرتا تھا اور جیسا کہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ ‘ ً دلیل نہیں ہے تو جھگڑا کرلو مار دو ً اورعارف کے دلیل کا جواب نہ تھا اسی لئے اس کو غاضبوں اور بزدلوں نے مار دیا۔ اور اُسی کے ساتھ ‘ ً اپنا ً یعنئ آل پارٹی نیشنل الائنس کا اتحاد بھی اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اِ سی لئے عارف شاہد جیسے اتحاد کے پیام بھر کو قتل کیا گیا تاکہ نشنلسٹ متحد نہ ہوسکیں ؟ وجاہت حسن اورشوکت مقبول بٹ کو پاکستان سے نکلنا پڑا؟

جس طرح شہید مقبول بٹ کو پھانسی کے پھندے تک ایجنٹ کے ناموں سے پکارتے تھے اسی طرح پروپگنڈے نے عارف شاہدجیسے سچ کے سورج پر بادلوں کا سایہ ڈالا ہے مگر میرا وجدان ہی نہیں بلکہ میرا ایمان ہے کہ جب ریاست کے لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کا جذبہ پیدا ھوگا اور جب ان کو اپنے وطن سے محبت ہوگی تو تمام لوگ زور زور سے پکاریں گے ‘ ً عارف ہمارا ہے اور ہم سبوں کو عارف کی طرح وطن کے خاطر قتل کرو ً

کیونکہ میرے قائد مقبول بٹ کو بھی پھانسی کے وقت تک ہندوستان میں پاکستانی ایجنٹ اور پاکستان مِیں ہندوستانی ایجنٹ کے نام سے اپنے ہم وطن بھی پکارتے رہے اور میری طرح دونوں ملکوں میں ان ہی الزاموں کے تحت مقدمات بھی چلتے رہے؟

ایک بڑی پیشنگوئی یہ کرنا چاہتا ھوں کہ چاہئے لاکھ کشمیر کے سچے نشلسٹوں کے خلاف دونوں ملکوں کے حکمران یا اُ ن کے ضمیر فروش مقامی ایجنٹ،ایجنٹی ایجنٹی کا کھیل کھیلے ۔۔مگر جیت ان سب عظیم اور محبِ وطن انسانوں کی ہی ہوگی جو مادر وطن سے بےلوث محبت کرتے ہے اور جو وطن کے ہر فرد کو چاہے وہ کسی بھی مذہب،ذات ،برادری یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو اِس وطن کے باشندے سمجھ کر اُن کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے ہے ا۔یہ بات بھی یاد رکھو کہ سُدھن قوم بہت بہادر ہے لیکن سوئے ہوئے ہے لیکن جب یہ قوم جاگ اُٹھے گی تو بخدا عارف شاہد کے لئے سب پکاریں گے ً عارف شاہد ہمارا ہے اور ہمارا تھا ً وہ وقت آنے والا ہے۔ سورج کو بادل تھوڈی دیر کےلئے چھپا تو سکتا ہے مگر سورج طبو تاب سے آخیر کار طلوع ھوہی جاتا ہے؟ عارف شاہد نے ثابت کیا :
:


میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے۔۔۔
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے ً”

ہاشم قریشی “

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here