Home Articles Babri Masjid or Ram temple Article by Hashim Qureshi

Babri Masjid or Ram temple Article by Hashim Qureshi

1477
0
SHARE

           با بری مسجدیا رام مندر  اور اسکا ممکنہ حل؟

                                                ہاشم قریشی
مسجدیں ، مندر، گردوارے ، چرچ یا کوئی بھی عبادت گاہ بندے اور خالق
کائینات کے درمیان رابطہ ہونے کی جگہ تسلیم کی گئی ہے لیکن یہ افسوس کی
بات ہے کہ خالقِ کائینات کا جو مسکن ہے اُسکو فسادات اور انسانیت کی قتل
کا باعث بنایا جائے؟ دنیا میں جتنے بھی عقلمند اور انسانوں کی بقاء کو قائم رکھنے اور ترقی کرنے اور مختلف کمنیٹیوں کے درمیان صلح و آشتی
قائیم کرنے کے جذبوں پر یقین رکھتے ہیں وہ ایسے معاملات میں صلح و صفائی
سے ’’کچھ لو کچھ دو ‘‘ کے فارمولے پر یقین رکھتے ہیں-
اس تمہید کے بعد با بر ی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے یا تاریخ کہتی ہے
کہ یہ مسجد با بر کے دورمیں انکے ایک صوبیدار نے یہاں قائیم کی اسکے بارے
میںبھی مختلف رائے پائی جاتی ہیں کہ اکثر یتی طبقہ ہند و کہتے ہیں کہ
یہاں پر رام کا مندر تھا جو مٹا یا گیا اور اُسکی جگہ بابری مسجد بنائی
گئی مسلمان اس سے انکار کرتے ہیں کہتے ہیں یہ غلط ہے اور یہاں کوئی مندر
نہیں تھا یہ جھگڑا انگریزوں کے وقت سے چلتا آرہا ہے۔ مختلف عدالتوں نے
مختلف فیصلے دئیے ہیں جسمیں الہ آباد  ہائی کورٹ نے اُس زمین کو جہاں
بابری مسجد قائم ہے تین حصوں میں تقسیم کیا دو حصے ہندوں کو دئے اور ایک
حصہ مسلمانوں کو دیا۔ اس بات کو بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے
Arcology سے بھی رپورٹ لی ہے جنہوں نے ا پنی رپورٹ میں کہا ہے یہاں پر
ایسےکھنڈر رات تھےجو مندر بھی ہو سکتا ہے اور اسی بناء پر ہائی کورٹ نے
تقسیم کا فیصلہ دیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ نہ دس /پندرہ کنال اراضی کا
مسئلہ ہے یہ سینکڑوں کنال کا مسئلہ ہے جسکا جھگڑا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد
رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کے آئین میں قانون یہ کہتا ہے کہ جو آزادی کے
وقت جس جگہ مسجد یا مندر یا کوئی عبادت گاہ بنا ہو اسکو تبدیل نہ کیا
جائے لیکن بد قسمتی سے ہندو انتہا پسند تنظیموں نے ملکر 1990؁ء میں بابری
مسجد کو غنڈہ گردی اپنا کر مسمار کیا- جس سےنہ صرف مسلمانوں کو بلکہ دنیا
کے ہر اس انسان کو تکلیف پہنچی جو تمام مذہبوں کا احترام کرتا ہے- چونکہ
یہ معاملہ بہت ہی حساس تھا اس لئے اس پر مختلف اوقات میں ہندو مسلم
فسادات بھی ہوئے جسمیں مسلمانوں کی جائیدادیں لوٹی گئی اور بے دریغ
مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا بد قسمتی یہ رہی ہے کہ مر کزی حکومتیں ہو یا
صوبائی حکومتیں ہو اہنوں نے کبھی بھی آئین کے مطابق ایسے حادثات کا
مقابلہ نہیں کیا بلکہ انکے اعمال سے فرقہ پرستی کو فروغ ملا۔ جن لوگوں نے
بابری مسجد مسمار کی ان میں سے کافی لوگوں پر کیس درج ہوا جو آج 28
سالوں کے باوجود بھی ’’عدلیہ‘‘ کے کمرے کے ارد گرد ہی گھوم رہا ہے؟ اس
لئے کہا جاتا ہے کہ موجودہ سسٹم میں عدالتیں اکثر ملکوں میں اونچے طبقے ،
حکمرانوں اور سسٹم کے دفاع  کے لئے ہی بنتی ہیں اسکے لئے ہمیں ثبوت کی
ضرورت نہیں خود دنیا کے مختلف ممالک میں عدالتوں کا رول ثابت کر تا ہے۔
مسلمانوں نے اِلہ آباد ہائی کورٹ فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کی
جو آج بھی وہاں پر مکمل فیصلے کے انتظار میں پڑی ہوئی ہیں اور تاریخوں
پر تاریخیں ڈال کر اس مسئلے کو ٹالنے کی بہت کوشش کی جا رہی ہے کہ کیس کو
رٹ کے باہرہی کوئی فیصلہ ہو اس بات کا افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ انتہا
پسند ہندو تنظیمیںبہ بانگ دہل بیانات دیتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا جو بھی
فیصلہ ہو چاہے وہ مسلمانوں کے حق میں ہو ہم وہاں رام مندر بنا کے رہینگے
ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ رام مندر مختلف حصوں کی صورت میں اسکو
ملک کے مختلف جگہوں پر بنایا جا رہا ہے اور صرف ان حصوں کو ایودھیا میں
جوڑ نے کی دھیر ہے۔ بہت سارےکاریگر جو مندر پر کاریگری کررہے ہے ان میں
مسلمان بھی شامل ہے۔
رام مندر یا بابری مسجد کی کہانی یا قانونی پہلو یا حکمرانوں کی سیاست
گری یہ ایک طویل کہانی ہے جس پر ہزاروں صفحے لکھے جا سکتے ہیں۔ اب سوال
صرف یہ ہے کہ اس مسئلے کو کیا دو مذہبوں کے درمیان یا ہندو مسلم طبقوں کے
درمیان ہندوستان میں فسا دات اور ایکدوسرے کو قتل کر نےاور جائیدادیں
تباہ کرنے کا باعث بنا یا جائے یا اسکو دانشمندی سے آپسمیں طے کیا جائے؟
کیونکہ یہ فیصلہ قانون سے طے نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ اسکے ساتھ لوگوں کے
نہ صرف مذہبی جذبات کا مسئلہ ہے بلکہ کچھ انتہا پسند طاقتیں چاہے وہ
مسلمانوں کی ہو یا ہندوں کی ہو وہ اس مسئلے کو نہ صرف فسادات کا ذریعہ
بنانا چاہتے ہے بلکہ 26/25 کروڑوں مسلمان جو ہندوستان میں رہتے ہیں انکو
متقل طور نہ صرف اپنے ملک کا دشمن قرار ینا چاہتے ہیں بلکہ انکو یہ بات
ذہن نشین  کرناچاہتے ہیں کہ ہندوستان ہندوں کا ملک ہے اور یہاں پر
مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے یعنی 1947؁ء میں پاکستان بننے پر جن
لوگوں نے دو قومی نظریہ کو ہوا دے کر بر صغیر میں مسلمانوں کو تقسیم کیا
اور پھر بنگلہ دیش کی صورت میں تقسیم در تقسیم کیا کہ آج مسلمان پاکستان
کے 22 کروڑ بنگلہ دیش کے 24 کروڑ  اور ہندوستان کے 25 کروڑ یعنی کل 75/70
کروڑ مسلمان تین خطوں میں تقسیم کر دیئے گئے؟
اب بابری مسجد کی وجہ سے انکو مزید تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
ہندوستان کے مسلمانوں کو حالات و واقعات اور گراونڈ Situation سے  یہ سبق
سیکھنا ہو گا کہ انکی بقاء کا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے وہ ہے آپس
میں بقاء باہمی اور ایکدوسرے کے مذہبوں کا احترام کرنے کی صورت میں ہی
انکی عزت آبرو اور ترقی وابستہ ہے۔
بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے ہونے یا نہ ہونے کا اب سوال نہیں ہے
؟بلکہ سوال یہ ہے ہندوستان کی اکثریتی طبقے کے لئے یہ ہندو مذہب کے سب سے
قابل احترام ، بھگوان کہو اوتار کہوکچھ بھی کہو انکی محبت اور عقیدت کا
مسئلہ بن چکا ہے آپ کسی بھی قانون کے حوالے سے اس بات کو ہندوں کے ذہن
سے رام مندر نہیں نکال سکتے؟ میرے نزدیک اس کا بہترین حل کیا ہو سکتا ہے
اس بات کو ہمیں مد نظر رکھنا ہو گا کہ آج سے /500/200/300 سال پہلے دنیا
میں ’’جسکی لاٹھی اسکی بھنیس ‘‘کا قانون چلتا تھا اور شعور کے پروان نہ
چڑھنے کی وجہ سے مختلف مذاہب کے لوگ ہر اُس مذہب کے لوگوں پر ظلم و جبر
کرتے تھے انکی عبادتگا ہوں کو مٹا دیتے تھے جو کمزور یا کہیں جگہوں پر
اقلیت میں ہوتے تھے ہمیں تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات پر ضرور غور
کر نا چاہئے کہ محمود غزنوی نے 17 دفعہ ہندوستان پر حملہ کر کے مندروں کو
لوٹا ہے ہزار سال ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت اور موجودہ ہندوں کی
آبادی اور انکے مندروں کی تعداد سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس ہزار
سالہ حکمرانی میں مسلمانوں نے زبر دستی مذہب تبدیل نہیں کرا یا کیونکہ
ہزار سالہ تاریخ میں جبکہ کوئی میڈیا نہیں تھا۔ کوئی اقوام متحدہ نہیں
تھا۔ کوئی ہومن رائیٹس کونسل نہیں تھا بس حکمرانوں کی اندھی طاقت ہی
انصاف کہلا تا تھا اُس دور میں اگر مذہب زبردستی سے بدلے جاتے تو آج
ہندوستان میں ہندوں کی آبادی ڈھونڈ نے سے بھی نہیں ملتی؟
آپ اسپین کو مد نظر رکھئیے جب بُنوامُیہ کو وہاں سے عیسائیوں نے شکست
دی اور مسلمانوں کو دو option  دئے گئے یا تو سپین چھوڑ دو یا اپنا مذہب
بد لو نہیں تو قتل ہو جائو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو لوگ وہاں سے نکل کر
مراکش چلے گئے ا ور جو لوگ مکر گئے ان کا اس طرح قتل عام کیا گیا کہ
سڑکوں میں ٹخنوں تک خون میں پیر ڈوبتے تھے اور جنہوں نے یہ سوچ کر مذہب
بدل دیا کہ اگلی نسل مسلمان ہو جائیگی اور ہم کھلے طور اسلام کے عقائد پر
عمل کر ینگے وہ سارے لوگ عیسائی کے عیسائی ہی رہے ۔ ہاں ہم یہ ماننے کے
لئے تیار ہیں کہ ان ہزار سالوں میں مذہب کےبدلوانے کے واقعات  ضرور ہو تے
ہونگے لیکن تاریخ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ہزار سالہ مسلمانوں کی
حکمرانی میں مذہب تبدیل کرنے کی کوئی پالیسی بنائی گئی تھی مجھے تو آج
کے دور میں BJPکی حکومت سے یہ نظر آرہا ہےکہ یہ آج کے دور میں مذہب
تبدیل کرنے کی پالیسی اپنا ئے ہوئے ہیں ؟کیونکہ اگر اُس دور میں مذہب
بدلا جاتا تھا تو یہ بات حساب دان انگلیوں پر گن سکتے ہیں کہ یہاں کتنے
ہندو بچ  گیےہوتے؟
بابری مسجد گرا کر ہندوستان کے قانون اور آئین کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں
اور 28 سال سے دلی اور UP کے حکمران بابری مسجد گرانے کو عدالتوں سمیت
تحفظ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اگر چہ یہ سیدھا سادھا مسئلہ ہندوستانی
انتہا پسند جماعتوں کی غندہ گردی اور مسلمانوں کی مقدس جگہ یعنی مسجد کو
گرانے اور آئین وقانون کو توڑ نے کا ایک عمل ہے جسکو قانون کے مطابق
مسجد گرانے والوں کو سزا دینی چاہئے تھی اور حکومت کو اپنی لاگت سے وہاں
پر نئی مسجد بنانی تھی اس میں عدالتوں کے لمبے چکروں کی بات ہی نہیں تھی؟
آخر اس سارے مسئلے کا حل کیا  ہو سکتا ہے کہ  :۔
ا۔ عدالتیں فیصلے دیں تب بھی یہ فیصلہ ایسا ہی رہے گا؟
۲۔ جھگڑے ، زبردستی، اکثریتی دھونس سے بھی یہ مسئلہ طے نہیں ہوگا؟
۳۔ کسی جماعت کو اتنی اکثریت بھی مل جائے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون پاس
کر ے یہ بھی نا ممکن ہے؟
۴۔ اس مسئلے کی وجہ سے اگر زبردستی رام مندر بنایا بھی جائے تو 25 کروڑ
مسلمان ملک میں موجودہے اور دنیا میں موجود ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے نہ صرف
دل مجروح ہونگے بلکہ مختلف ملکوں میں موجود ہندوستانی شہریوں کے خلاف
تعصب پھیل جائے گا۔ سب سےبڑا مسلہ ہندوستان کے آئین اور قانون کا ہے
کیونکہ قانونی طور پر  بابری مسجدکا گرانا اور اسکی جگہ مندر بنانا
ہندوستان کے آئین و قانون کو منہ چڑانے کے مترادف ہے۔پوری  دنیا میں
ہندوستان کے وقار۔اسکی عزت اور خارجہ پایسی کو شدید نقصان پہنچے گا؟
۵۔ ملک کے اندر فسادات پھیل جائینگے اس لئے میرے نزدیک آج بھی مسلمانوں
کو ہی بہت ہی اعلیٰ جذبے کے ساتھ قربانی دینی ہوگی۔ اپنے آنے والی نسلوں
کے بہترین مستقبل اور اکثریت کے ساتھ بھائی چارے کو بڑوا دینے کے لئےبھی
ضروری ہے کہ اسکا حل  تمام فرقوں کی منشا کے مطابق پرامن طریقےسے بات چیت
کے ذریعے نکالا جائے؟
چونکہ یہ مسئلہ ا س ملک کی اکثریت کے جذبات انکے مذہبی عقیدت اور رام کے
ساتھ وابستہ ہے اس لئے میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں کو اکثریتی طبقے
کو یہ آفرد ینی چاہئے کہ چونکہ یہ رام کے مندر کا مسئلہ ہے اس لئے آئے
ہم ملکر بیٹھ کر اسکا کوئی حل نکال سکتے ہیں کیونکہ یہ بات بھی یاد رہے
کہ مسلمانوں کے لئے رب کائینات نے زمین کے چپے چپے کو مسجد قرار دیا۔
مسجد ہو۔ عبادت  گاہ ہو، ہم زمین کے کسی بھی ٹکڑے پر نماز ادا کر سکتے
اور اگر پانی نہ ہو تئیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
حل ؟میرے نزدیک اس مسئلے کے دو حل ہیں کہ اس پورے علاقے کو ’’امن کا
شہر ‘‘ قرار دے کر اس پورے علاقے میں تمام مذہبوں کی عبادتگاہیں بنا کر
مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ یہ امن کا شہر بن کر ہر مذہب کے لوگ اس شہر کو
امن کا شہر مان کر ایکدوسرے کے ساتھ محبت و امن کے ساتھ رہے رام مندر بھی
بنا یا جائے بابری مسجد بھی بنائی جائے گرد وارہ بھی اور چرچ بھی بنایا
جائے؟
دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور زیادہ فراخ دلی کا مظاہرہ کر کے
یہاں پر رام مندر اس جذبے کے ساتھ بنانے دیا جائے کہ رام ہندوستان کا
اوتار ہے ا ور ہندوں کی ا کثریت اسکو بھگوان مانتے ہیں ہمیں بھی ا س کے
لئے ایودھیا کی اس جھگڑے والی زمین کو انتہا پسند ہندوں کے بجائے مرکزی
حکومت کے حوالے کیا جانا چاہئے اور یہاں پر حکومت کو ہی رام مندر بنانے
کی
اجازت دی جائے لیکن اس زمین کے بدلے میں مسلمانوں کو ایک UP میں اورکسی
اور ہندوستان کے بڑے شہر میں زمین دی جائے یعنی جو ایودھیا میں مسلمانوں
کی ملکیت ہے اُس سے دوگنی زمین دو جگہوں پر مسلمانوں کے وقف کی جائے اور
دونوں جگہوں پر انجینرینگ کالج ، میڈیکل کالج ،  ٹیکنیکل کالج اور ایک
یونیورسٹی ایک بڑی مسجد اسکے ساتھ وابستہ کانفرنس ہال تعمیر کرایا جائے ا
ور ان سب کو چلانے کے لئے 2/2 ارب روپیہ گرانٹ دی جائے ا ور حکومت کی طرف
سے بھی ہر سال دوسرے محکموں کی طرح امداد دی جائے ؟
یہ مسلمانوں کے لئے بھی ایک عزت دار اور بہترین حل ہوگا اس سے مسلمانوں
کے اندر تعلیمی قابلیت اور ٹیکنیکل قابلیت بڑھ جائے گی تاکہ مسلمانوں میں
پسماندگی دور ہو سکے اور ان لوگوں میں خدا کو پہنچانے میں زیادہ شعور
بڑھے گا اور ملک میں ہندوں کے اندر مسلمانوں کے لئے محبت و ایثار وجذبات
بڑھ جائینگے اور اکثریت مسلمانوں کی اس لا زوال قربانی کو جو مذہبی جذبات
سے وابستہ تھےقدر کر ینگے۔ اور سب سے بڑا حل یہ نکلے گا کہ دونوں طرف کے
ا نتہا پسندوں کے تمام
نا پاک منصوبے نا کام ہو نگے؟ ا ور ہندوستان میں اکثریتی فرقے اور
مسلمانوں کے درمیان نفرت کے تمام در وازے بند ہونگے ؟ بابری مسجد سے
وابستہ انتہا پسندی کا کارو بار ٹھپ ہو گا؟  تمام فرقے آپس میں محبت سے
رہینگے میرے نزدیک نہ عدالت کا فیصلہ مانا جائے گا نہ تقسیم کا فیصلہ
مانا جائیگا ان دو میں سے کوئی حل مان لو اور انسانیت کا نام پوری دنیا
میں روشن کرو۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کی قربانی اور اثیار کی مثالیں دی
جاینگی۔سب سے بڑی بات کی ہندوں مسلمان فسادات سے محفوظ رہینگے جن کے
دوران سیکورٹی فورسز بھی یا تو ناکام رہتی ہے یا پھر کچھ متصب بن جاتی
ہے۔ ٘میں امن اور مسایل پر امن طور پر حل کرنے کا حامی ہوں میرا مقصد
معصوم بچوں اور خواتین یعنی انسانیت کو بچانا ہے۔
ہاشم قریشی .جموں کشمیر ڈیموکرٹیک لبریشن پارٹی کے چیرمین بھی ہے۔
24.12.2018
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here