Home Articles Hashim Qureshi at Discussion and Progress Forum in Delhi

Hashim Qureshi at Discussion and Progress Forum in Delhi

2673
0
SHARE

“Discussion and Progress Forum”

کے تحت آج IIC سنٹر میں Road A Head کے موضوع پر سیمنار O P Shah کی زئر صدارت ہوا جس میں ریاست کے مختلف خیال اور مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں نے شمولیت کی اور تامل ناڈو اور ممبئ سے پارلیمنٹ کے ممبروں اور فاروق عبدللہ نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ بھیم سنگھ۔کے سی تیاگی سابقہ ممبر پارلیمنٹ۔ایڈوکیٹ عبدل سلام۔مظفر شاہ۔ پروفسر ایس بھان۔جان دیال اور چیرمین ڈی۔ایل۔پی ہاشم قریشی کے علاوہ بہت سارے پنڈتوں نے بھی شرکت کیا اور دیگر لوگوں نے شرکت کی ۔ڈاکٹر فاروق نے شیخ عبدللہ سے لے کر آج تک دہلی کے حکمرانوں اور اسٹبلیشمینٹ کی طرف سے کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم وجبر اور بھروسہ نہ کرنے کی طویل داستان بیان کی۔فاروق عبدللہ نے 370 کو کھوکلا کرنے پر روشنی ڈالی!

ہاشم قریشی نے بیان کیا اور چند بنیادی مطالبات دھرادئے:

” مسلہ کشمیر کی حثیت کو کوئی مانے یا نہ مانے مگر مسلہ کشمیر تو ہر حالت میں زندہ ہے“

انھوں نے کہا کہ جب آپ لوگ یہ بات کرتے ہو کہ انڈیا اور پاکستان یہ مسلہ طے کریں تو میرے نزدیک یہ اپروچ ہی غلط ہے۔ کیونکہ یہ دونوں ملک ریاست پر قبضہ کرچکے ہے۔ ایک نے قبائل کے زرئعے قبضہ کیا ہے اور دوسرے نے” الحاق کی دستاویز “کے زرئعے سے؟

1.اس لئے اس مسلے کا بہترین حل یہ ہے کہ ”Inter Kashmir Dialogue کے زرئعے گلگت سے ممبر تک اور دم چوک لداخ سے لےکر لکھن پور تک ریاست میں بسنے والوں کے درمیان بات چیت کے زرئعے لوگ فیصلہ کریں کہ وہ ریاست کو بحال کرتے ہے۔تقسیم کرتے ہے یا کسی ملک سے الحاق کرتے ہے؟یہ فیصلہ صرف اور صرف ریاست کے بسنے والوں کا ہونا چاہئے۔

2.دونوں ملک ریاست کی اصل شکل کو نہ ہی دفعہ 370 اور نہ ہی A 35 کا کوئی ردوبدل کریں اور نہ ہی پاکستان گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ تب تک بنالیں جب تک مسلہ کشمیر پر ریاستی عوام فیصلہ نہ کریں۔

3۔پنڈتوں پر آج تک 30 سالوں سے مرکزی حکومتیں اور ریاستی حکومتیں سیاست کرتے رہے۔ان کے انسانی مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے ان کو واپس لا کر اپنے گھروں میں بسایا جائے۔ میں نے جلاوطنی گزاری ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا درد ہے۔

4.کرتار پور کی طرح ریاست کے تمام قدرتی راستے کھول دئے جائے۔جن میں لداخ۔اسکردو۔کارگل۔گوریس۔کرناہ۔سیالکوٹ۔بانڈی پورہ۔اور جموں وغیرہ کے راستے کھول کر ریاست کے تمام لوگوں کے لئے بات چیت اور تجارتی راستے کھول دئے جائے۔؟

5.تمام کالے قوانین کے تحت نظربندوں کو رہا کردیا جائے۔یہ بات ہندوستانی جمہوریت کے لئے بدنامی کا باعث ہے کہ ایک نظر بند مسرت عالم کو 37 وی دفعہ PSA لگا کر نظر بند کردیا گیا؟ بے شک مجھے ان کے نظریات سے اختلاف ہے۔

6. ان تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے جن کو NIA نے سیاسی انتقام کی وجہ سے گرفتار کرکے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ان کے لواحقین کو بڑی بے عزتی سے جیلوں میں ملاقات کرائی جاتی ہے۔ اگر ان کے خلاف ثبوت ہو تو ان کے خلاف کھلی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائے۔

7. پنڈتوں کے اس مطالبے کو پورا کیا جائے جس کے تحت وہ کرتار پور کی طرح شاردا کے راستے کھولنے کا مطالبہ کررہے ہے۔

رہی بات ایٹمی جنگ کی تو میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ دونوں ملک صرف دھمکیاں دیتے ہے تاکہ برضغیر کے عوام کو بلیک میل کیا جائے۔ورنہ یہ دونوں ملک کھبی ایٹمی جنگ نہیں لڑیں گے۔یہ شام کو ہارٹ لائین پر فون کرکے ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہے کہ
” میں نے یہ بیان سیاسی ضرورت کے مطابق دیا ہے“؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here