Home Articles خوف کے ماحول سے باہر آجاو؟ (by Hashim Qureshi)

خوف کے ماحول سے باہر آجاو؟ (by Hashim Qureshi)

2002
0
SHARE

میرے کسی Status پر بحث ہورہی تھی کہ ایک تنویر صاحب نے تبصرہ کیا تو میں نے اسکو جواب دیا تو لمبا ہوگیا اور میں نے اس کو Status کے طور پر اپنے وال پر پوسٹ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے یہ سب بہت اچھا لگا لکھنے کےبعد! آپ بھی پڑھیں اور خوف سے باہر آجاو؟ اس قوم کی آنے والی نسلوں کو بربادی کے حوالے نہ کرو ؟

جناب تنویر صاحب!
جب میرا تجزیہ معروضی حالات کی وجہ سے قابلِ قبول ہے تو پھر بات کیا رہ جاتی ہے؟ کہ یہی کہ ہم اپنے حالات بدلے؟اپنی جدوجہد کا نئے سرے سے اندرونی اور بین الاقوامی تناظر میں تجزیہ کریں؟اس بات پر غور کریں اور حالات کا تجزیہ کریں کہ کیا وادی میں ایک مخصوص سوچ اور نظریہ کے لوگوں کے اس ”تحریک “میں شمولیت سے پورے جموں وکشمیر میں زمینی صورت حال بدل سکتی ہے؟ ہم ریاست کو متحد کرسکتے ہے یا وادی کو ایک اور ٹکڑے میں الگ کریں؟

آپ نے اس بات کی وضاحت بھی نہیں کی کہ کشمیر کہاں پر اور کن اداروں میں برنیگ ایشو بنکر سامنے یا پیچھے یا دایئں بایئں آگیا ہے؟ جناب یمن۔سریا۔عراق برما اور افغانستان میں روزانہ کتنے سیول لوگوں کو قتل کیا جاتاہے؟ اور ان میں کتنے بچے اور خواتین ہوتی ہے کھبی غور کیا ہے؟ سعودی عرب کی فوجیں کس طرح یمن کے بچوں پر بھی بمباری کرکے قتل کرتی ہے؟

اور پھر اگر انڈیا منظم اور ڈسپلن سیول نافرمانی سے جس میں 0% تشدد بھی نہ ہو۔اگر قائل نہ ہو تو کیا آج وہ آپکے ہفتے میں چند معصوم نوجوانوں کے انکاونٹر میں مارے جانے۔چند بیانات اور بے کار اور نقصان دہ ہڑتال کی قال سے قائل ہورہے ہے؟ یہ تو آپ 30 سالوں سے کررہے ہے؟ پوری دنیا میں ان مسلح تنظیموں کو دہشت گرد تنظمیں قرار دے کر ان کو مارنے سے آپ کی
” جدوجہد سے کونسا دنیا کا ادارہ قائل ہورہا “؟

جناب تشد کا راستہ چھوڈ دیں۔لوگوں کو ایک انصاف پسند معاشرے کی بنیاد پر منظم کریں اور سیول نافرمانی تحریک کو تشکیل دیں ۔ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ جایئں۔دنیا خود سنیں گی۔اگر ابتدا سے سیول نافرمانی کی تحریک چلائی ہوتی تو نہ اتنے لوگ مارے جاتے اور دنیا نے ہماری سن لی ہوتی جناب؟

آپ نے خوف ذدہ ہوکر پاکستان۔ہندوستان اور حریت اور ان سابقہ ملی ٹنٹوں کو License to kill کی اجازت دی ہے؟ آپ ایک وقت میں انڈیا کے وزئر داخلہ اور وزئر اعظم اور دوسرے آفیشلوں کو خفیہ اور کھلے میں ملتے ہے ؟ مگر جب آپ کو انڈیا کی پارلیمنٹ کا وفد ملنے آتا ہے تو آپ مہمان نوازی کی بھی توہین کرکے ان کے لئے دروازہ بھی نہیں کھولتے؟مگر جب اسی bjp کا سابقہ وزیر اور سابقہ آفیشل ملنے آتے ہے تو آپ بات چیت شروع کرتے ہے؟ اور جب بات چیت کی بات ہو تو آپ مطالبہ کردیتے ہے کہ ” پاکستان سے بات چیت کرو“ تو صاف مطلب نکلتا ہے کہ آپ یہاں پر پاکستان سے بات چیت کےلئے دباو ڈالنے کے لئے یہاں بچوں کو مرواتے ہے؟ بس کرو اس قوم کا استصال ذیادہ دیر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ لوگ اب خوف سے نکلنے لگے ہے؟

آپ نے اس قوم کو بھی ”شتر مر غ “ کی چال سیکھادی ہے۔کیونکہ ایک جگہ انکاونٹر ہورہا ہوتا ہے تو باقی تمام وادی میں کاروبار چالو ہوتا ہے۔؟جب نوجوانوں کے بارے میں انکاونٹر میں موت یا آپ اسے شہادت کہدیں۔خبر آتی ہے تو جنازوں میں شامل ہونے کی دوڈ لگ جاتی ہے؟

یقین مانیں ان جنازوں میں وہ لوگ آگے ہوتے ہے جو ان ملی ٹنٹوں کی موت کا باعث بنے ہوتے ہے؟ جنھوں نے مخبری کی ہوتی ہے؟ایک اخباری بیان اور وہ بھی ان کا جو خود بندوق چھوڈ کر اب ”سیاسی “ لیڈر اپنے آپ کو کہتے ہے؟

اور پھر آپکے خود تشکیل کردہ ”تین لیڈروں“ کی ہڑتال کی اپیل؟ بس یہ ہفتے میں دو ایک دفعہ کولہو کے بیل کے چکر کی طرح ہوجاتا ہے؟ اگر اس سے آپکو تسکین ملتی ہے تو دھراتے رہے یہ سب ماضی کے 30 سالوں کی طرح اگلے 30 سالوں تک مگر اس سارے عمل کرنے سے آزادی تو دور کی بات ہے آزادی سے سانس لینے کی آزادی بھی نہیں ملے گی؟

مین سیاسی پارٹیوں کا انجام دیکھ لیں۔؟ ایک نئی مین اسٹریم کلاس سجاد لون کی قیادت میں ہر طرف پھلنے اور پھولنے کا نظام بنایا جارہا ہے؟ بلامقابلا ادارئے وجود میں لائے جارہے ہے؟ کس کو فکر ہے؟ کون روک رہا ہے؟ آپ بہت خوش ہونگے کہ آپ نے مین اسٹریم کو بلدیاتی اور پنچیاتی الیکشنوںسے باہر لایا؟ آپ غلط فہمیوں میں مبتلا ہے؟یہاں پر خالی بیلٹ بکسوں اور 2/% ووٹنگ پر یہ سارا نظام چلاتے رہئنگے اور دنیا کو ”جمہوریت“ کے ڈھول کی آوازیں بھی سناتے رہینگے؟

بس آپ ہر انکاونٹر پر بیان بازی اور ہڑتالیں کی کالیں دیتے جایئں؟کسی نے 30 سال کوئی پرواہ کی ہے کہ اگلے 30 سالوں تک کرینگے؟ جنازے اٹھاتے رہے۔پاکستانی جھنڈا اورISIS کے جھنڈے لاشوں پر ڈالتے رہے؟ بڑے بڑے جنازے نکالتے رہے؟

لیکن اس قوم کو اہنے بچے ! جو مشکل سے جوان ہوتے ہے۔جن کو ماں باپ غربت کے کوڈے کھا کھا کر تعلیم دلاتے ہے اور کسی کسی کو phd. MA تک پہنچاتے ہے؟مگر آپ پوری ”سیول سوسائیٹی اور لیڈروں کے نام پر سہولیت کار ان کو قبروں میں اتارتے ہے؟ مگر آپ سب لوگ اسقدر چالاک ہو کہ اپنے بچوں کو بزنس۔مین۔سرکاری آفسر اور سیاست دان بناتے ہو؟ واہ رے تمارے ”جہاد“ کو؟

جنازوں کی بات کرتے ہو تو پولیس والوں کے جنازوں میں بھی اور جن کو آپ ”مخبر“ قرار دیتے ہو۔ ان کے جنازوں کی تعداد پر بھی نظر ڈالیں؟

” یاد رکھو کہ ایک بے عمل قوم کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ صرف جنازوں میں کثیر تعداد میں شامل ہوتی ہے اور کوفے والوں کی خصلت کی طرح قتل کرکے یا قتل کراکر ماتم کرنے لگتے ہے جناب؟

جرات مندی یا گستاخی خیال کرو تو مجھے معاف کرنا ؟.اس قوم کو اس طرح مرتے ہوئے اور رسوا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ بڑی تکلیف ہوتی ہے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here