Home Articles Centre for peace and Progressay

Centre for peace and Progressay

2453
1
SHARE

Centre for peace and Progressay

کےتحت آج ایک راج باغ کے مقامی ہوٹل میں بحث و مباحثہ ہوا۔ کانگریس کے منی شنکر آئر
۔اوپی شاہ۔یوسف تاری گامی۔غلام حسن میر۔رشید کابلی۔ایڈوکیٹ محمد امین بٹ۔طاہر مجید اور کافی سارے سیاسی Activists تھے۔میں نے کھلم کھلا کہا کہ ہندوستان اور پاکستان ہم ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کا فیصلہ کیوں کرینگے؟زمین ہماری وطن ہمارا ہم کو آپسمیں ریاست کے تمام لوگوں کو بات چیت کرنے دیں۔تاکہ ہم گلگت وبلتستان ۔جموں اور وادی اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لوگ Intra – Dialogue کے زریعے بات چیت کرنے کے بعد ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم ریاست میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہئتے ہے یا الگ الگ ٹکڑوں میں ریاست کو بانٹنا چاہتے ہے؟فیصلہ ہمارا ہو ہندوستان و پاکستان کا نہیں“ ہال میں تالیاں بجائی گئے!

Centre for peace and ProgressayPart-2 :کےتحت آج ایک راج باغ کے مقامی ہوٹل میں بحث و مباحثہ ہوا۔ کانگریس کے منی شنکر آئر۔اوپی شاہ۔یوسف تاری گامی۔غلام حسن میر۔رشید کابلی۔ایڈوکیٹ محمد امین بٹ۔طاہر مجید اور کافی سارے سیاسی Activists تھے۔میں نے کھلم کھلا کہا کہ ہندوستان اور پاکستان ہم ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کا فیصلہ کیوں کرینگے؟زمین ہماری وطن ہمارا ہم کو آپسمیں ریاست کے تمام لوگوں کو بات چیت کرنے دیں۔تاکہ ہم گلگت وبلتستان ۔جموں اور وادی اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لوگ Intra – Dialogue کے زریعے بات چیت کرنے کے بعد ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم ریاست میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہئتے ہے یا الگ الگ ٹکڑوں میں ریاست کو بانٹنا چاہتے ہے؟فیصلہ ہمارا ہو ہندوستان و پاکستان کا نہیں“ ہال میں تالیاں بجائی گئے!

Posted by Hashim Qureshi Jkdlp on Sunday, August 26, 2018

Centre for peace and Progressayکےتحت آج ایک راج باغ کے مقامی ہوٹل میں بحث و مباحثہ ہوا۔ کانگریس کے منی شنکر آئر۔اوپی شاہ۔یوسف تاری گامی۔غلام حسن میر۔رشید کابلی۔ایڈوکیٹ محمد امین بٹ۔طاہر مجید اور کافی سارے سیاسی Activists تھے۔میں نے کھلم کھلا کہا کہ ہندوستان اور پاکستان ہم ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کا فیصلہ کیوں کرینگے؟زمین ہماری وطن ہمارا ہم کو آپسمیں ریاست کے تمام لوگوں کو بات چیت کرنے دیں۔تاکہ ہم گلگت وبلتستان ۔جموں اور وادی اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لوگ Intra – Dialogue کے زریعے بات چیت کرنے کے بعد ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم ریاست میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہئتے ہے یا الگ الگ ٹکڑوں میں ریاست کو بانٹنا چاہتے ہے؟فیصلہ ہمارا ہو ہندوستان و پاکستان کا نہیں“ ہال میں تالیاں بجائی گئے!

Posted by Hashim Qureshi Jkdlp on Saturday, August 25, 2018

 

1 COMMENT

  1. I like your way of writing and expressing ..I dont understand your role.Can you say something about yourself.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here